Pages

Tuesday, April 19, 2011

Urdu Short Story Dharna By M.Mubin




افسانہ دھرنا از:۔ ایم مبین

سب سے پہلے سیکریٹری نے انھیں اس بات سے مطلع کیا تھا ۔

" آپ نے آج کا اخبار پڑھا ؟ " فون پر اُس نے پوچھا ۔

" آپ کے فون کی آواز سے جاگا ہوں ۔ تو بھلا اخبار کس طرح پڑھ سکتا ہوں ۔ کہےئے ، کوئی خاص بات ، خاص خبر ؟ "

" ہاں ! سرکار نے ان اسکولوں کی فہرست جاری کی ہے جن کو سرکار نے منظوری نہیں دی ہے ۔ اِس فہرست میں ہماری اسکول کا بھی نام ہے ۔ " دُوسری طرف سے آواز آئی ۔

" کیا ، کیا کہہ رہے ہیں آپ ...... سرکار نے ہمارے اسکول کو منظوری نہیں دی ..... تو کیا ہماری اتنی بھاگ دوڑ ، خط و کتابت ، وزیروں ، آفیسروں سے ملنا جلنا ، اُن کی خاطر مدارات سب بے کار گیا ؟ "

" سب بے کار گیا ، صدر صاحب ..... ! مجھے پہلے ہی سے ڈر تھا کہ ایسا ہی ہوگا اور ایسا ہی ہوا ہے ...... ہمیں پہلے ہی اطلاع مل گئی تھی ۔ اِس سال بھی سرکار نے ہماری اسکول کو منظوری نہیں دی ہے ...... اور اب تو ساری دُنیا کو معلوم ہوجائے گا صدر صاحب ! طوفان ........

" ہاں سیکریٹری صاحب ! " وہ تشویش بھرے لہجے میں بولے ۔ " اِس طوفان کی آمد کو میں بھی محسوس کررہا ہوں ۔ "

اور اِس کے بعد تو اور بھی کئی طوفان آئے ۔

لوگوں کو جواب دیتے دیتے اُن کا سر چکرانے لگا .....

وہ تو اِس بات سے ہی فکر مند تھے کہ لوگوں کو فون پر سمجھانا مشکل ہورہا ہے ۔جب وہی لوگ اُن کے سامنے ہوں گے تو وہ کس طرح اُن کو سمجھا پائیں گے ؟

" گپتاجی نے جو اسکول کھولی ہے اُسے تو ابھی تک سرکار کی منظوری بھی نہیں ملی ہے ۔ اِس اسکول میں ہمارے بچے پڑھ رہے ہیں ۔ یہ تو اُن کی زندگی کے ساتھ بہت بڑا کھلواڑ ہے ۔ "

" گپتاجی ! آپ نے تو میرے بچے کو کہیں کا نہیں رکھا ۔ آپ کی اسکول کو ابھی تک منظوری نہیں ملی ہے ، اِس کا مطلب آپ کی اسکول سے نکلنے کے بعد میرے بچے کو کسی بھی اسکول میں داخلہ نہیں ملے گا ...

" گپتا جی ! اسکول کھولنے کے نام پر آپ نے جنتا سے لاکھوں روپے جمع کئے ہیں ۔ پیسہ تو آپ نے جمع کرلیا لیکن اسکول کو منظوری نہیں دِلائی ۔ "

وہ ساری باتیں سننے کے بعد ایک ہی جواب دیتے ۔

" آپ کو فکر مند ہونے اور جوش ، غصے میں آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ یہ سب سرکاری داؤ پیچ اور ہتھکنڈے ہیں ۔ ایک ماہ کے اندر ہماری اسکول کو منظوری مل جائے گی ۔ "

اُنھوں نے بڑے اعتماد سے ہر کسی کو جواب دیا اور طے کیا کہ ہر کسی کو یہی جواب دیں گے ۔ لیکن وہ اپنے اعتماد کے کھوکھلے پن کے بارے میں سوچ سوچ کر خود ہی کانپ اُٹھتے تھے ۔

" دو سال سے منظوری حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاچکی ہے ۔ کاغذی کاروائی اور خط و کتابت سے فائلوں کا ڈھیر تےّار ہوگیا ہے ۔ محکمہ تعلیم سے وِزارتِ تعلیم ، وِزارتِ تعلیم سے سیکریٹریٹ ، سیکریٹریٹ سے وزیرِ اعلیٰ کے دفتر کے چکّر لگاتے لگاتے اُن کے ساتھ ساتھ سیکریٹری ، اسکول کے کچھ ممبران ، ہیڈ ماسٹر ، کلرک ، ٹیچرس کی چپلیں گھس گئی ہیں ۔

لیکن پھر بھی منظوری نہیں مل سکی ۔

فوراً منظوری حاصل کرنے کا راستہ بھی بتایا گیا تھا ۔ کچھ لے دے کر کام کرلیا جائے ۔ لیکن مانگ اتنی بڑی تھی کہ اُن کے ساتھ ساتھ پورے بورڈ کو سوچنے پر مجبور ہونا پڑا تھا ۔

بات یہ بھی نہیں تھی کہ جو مانگ تھی وہ پوری نہیں کی جاسکتی تھی ۔ مانگ کی رم کا انتظام ہوسکتا تھا ۔ مانگ سے کئی گنا زیادہ رقم اُن کے پاس موجود تھی ۔

لیکن وہ اپنے اُصول پر اُڑ گئے ۔

" ہم لوگوں سے لیتے ہیں ..... ہم بھلا دُوسرں کو کیوں دیں ۔ اور پھر ہم جو کچھ کر رہے ہیں اِس میں ہمارا ذاتی مفاد تو کچھ بھی نہیں ہے ۔ ہم یہ عوام کی خدمت کے لئے کر رہے ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اسکول سے جو بچے تعلیم حاصل کریں وہ اتنے قابل ہوں جو دُنیا کے ہر مقابلے میں اپنی قابلیت اور لیاقت کی بُنیاد پر کامیاب ہوکر ہمارا ، ہماری اسکول کا نام روشن کریں ۔ اِس لئے ہم نے تعلیم کے معیار پر بہت زیادہ توجہ دی ہے ۔ "

اور یہ بات تو عوام سے بھی منوا لی تھی کہ اُن کی اسکول کا تعلیمی معیار دُوسری اسکولوں کے معیار سے بہت اونچا ہے ۔ ٹیچر بہت محنت کرتے ہیں ۔

اِسی لئے تو ان کی اسکول میں داخلہ لینے کے لئے بچوں کے والدین کی قطاریں لگ گئی تھیں اور وہ اپنی قطاروں کا فائدہ اُٹھاتے تھے ۔

دیکھئے آپ اچھی طرح جانتے ہیں ، ہماری اسکول کا تعلیمی معیار کتنا اونچا ہے ۔ لیکن کیا کریں ، ہماری اسکول کو کوئی سرکاری گرانٹ تو ملتی نہیں ۔ ؤپ سے ڈونیشن ، فیس اور عوام سے اسکول چلانے کے لئے جو چندہ ملتا ہے اُسی سے یہ اسکول چلتی ہے ۔ اِس لئے آپ لوگ ہماری مجبوریوں کو سمجھیں ۔ ہم ڈونیشن کے نام پر آپ سے جو مانگ رہے ہیں وہ مانگ ہماری مجبوری ہے ۔ ہم آپ لوگوں کی مجبوری کا ناجائز فائدہ نہیں اُٹھا رہے ہیں ۔ اِس لئے آپ ہماری مجبوریوں کو سمجھتے ہوئے اور اپنے بچوں کے تابناک مستقبل کے لئے زیادہ سے زیادہ رقم دیں ، تاکہ اسکول چلانے میں ہمںے کوئی دِقّت نہ ہو اور ہم آپ کے بچوں کا مستقبل بنا سکیں ۔ "

اپنی مجبوریاں بتا کر اور لوگوں کو اُن کے بچوں کے سنہرے مستقبل کا خواب دِکھا کر اُنھوں نے بچوں کے داخلوں کے نام پر اونچی ڈونیشن وصول کی تھی ۔

اس کا کہیں کوئی حساب کتاب نہیں تھا ۔ وہ لاکھوں روپے اُن کی تجوری میں جمع تھے اور اُن کے بزنس میں لگے ہوئے تھے ۔

اسکول کھولنے کے نام پر بھی اُنھوں نے عوام سے لاکھوں روپے جمع کئے تھے ، جن سے اُن کا کاروبار بڑھا تھا ۔ اِس کے علاوہ بھی وہ آئے دِن اسکول چلانے کے نام پر امیروں سے عطیات وصول کرتے رہتے تھے ۔

اِس طرح کتنا روپیہ جمع ہوا اور اسکول کے قیام ، چلانے پر کتنا روپیہ خرچ ہوگیا ، کتنا روپیہ باقی ہے ، باقی بھی ہے یا نہیں ؟ اِس بارے میں تو اسکول کے انتظامیہ کے اراکین کو بھی علم نہیں تھا ۔

سیکریٹری کو کچھ کچھ معلوم تھا ۔ لیکن وہ تو اُن کا اپنا آدمی تھا ۔

تمام ممبران صرف یہ جانتے تھے کہ اسکول کے لئے جگہ خریدی گئی ...... اس جگہ عمارت تعمیر کرکے اسکول قائم کی گئی ...... اسکول شروع ہوئی ..... اسکول چلانے کے لئے ٹیچر اور ضروری عملہ متعین کیا گیا ۔ اسکول اور ٹیچر کی تنخواہ کا خرچہ دِن بہ دِن بڑھتا ہی جارہا تھا ۔ تمام اخراجات وہی ادا کرتے ہیں ۔ اب اتنے پیشے تو جمع ہونے سے رہے ۔ ضرور گپتا جی اپنی جیب سے بھی پیسہ لگائے ہوں گے ، بڑے آدمی ہیں ۔ بھگوان نے دَھن کے ساتھ ساتھ بڑا دِل بھی دیا ہے ۔ اِسی لئے تو اسکول میں دِل کھول کر پیسہ لگاتے ہیں ۔ ہمیں اسکول کا ممبر بنا لیا ، یہی اُن کا بڑا پن ہے ۔ اِس ممبر شپ کے بدلے میں وہ ایک پیسہ بھی تو نہیں مانگتے ہیں نہ پہلے کبھی لیا ۔ لوگ ایسے عہدوں کو پانے کے لئے لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں ، پھر بھی اُنھیں اِس طرح کے عہدے مل نہیں سکتے ۔ لیکن گپتا جی نے ہمیں یہ عہدہ مفت میں دیا ہے ، یہ اُن کا بڑا پن ہے ۔ ممبران اب تک اُن کے بارے میں شاید یہی سوچتے تھے ۔ لیکن جب اُنھیں پتہ چلے گا کہ ابھی تک اسکول کو منظوری بھی نہیں ملی ہے ۔ تو اب وہ ضرور پوچھیں گے ۔

" گپتاجی ! ہماری اسکول او ابھی تک منظوری کیوں نہیں مل پائی ؟ "

" اُنھیں سمجھانا کون سی بڑی بات ہے ۔ " اُنھوں نے اپنا سر جھٹک دیا اور بڑبڑائے ۔ " کہہ دوں گاوزیر منظوری دینے کے دس لاکھ روپے مانگ رہا ہے ۔ اسکول کے اراکین کے ناطے آپ لوگ ایک ایک لاکھ روپے دیں ۔ اسکول کو منظوری مل جائے گی ۔ یہ سنتے ہی سب کی سٹی گُم ہوجائے گی ۔ میں نے اراکین میں ایسے ایسے کنجوس جمع کئے ہیں جو سگریٹ کے لئے بھی ایک روپیہ خرچ کرنے سے پہلے دس بار سوچتے ہیں ۔ اُنھیں ایک لاکھ روپے چندہ دینے کے نام پر سانپ سونگھ جائے گا ۔ اِس کے بعد اُن سے صاف کہہ دوں گا ، آپ لوگ اتنا نہیں کرسکتے اور پھر بھی اسکول کے ممبر بنے رہنا چاہتے ہیں تو اسکول میں کیا ہورہا ہے ؟ اِس پر دھیان نہ دیں ۔ میں سب سنبھال لوں گا ......

اِس کے بعد سب کی بولتی بند ہوجائے گی ۔ "

وہ اسکول گئے تو اسکول میں بچوں کے گھر والوں کا تانتا لگ گیا ۔

" آپ کے اسکول کو ابھی تک منظوری نہیں مل سکی ۔ اِس طرح تو آپ کے اسکول میں پڑھ کر ہمارے بچوں کی زندگی برباد ہوجائے گی ۔ وہ کہیں کے نہیں رہیں گے ۔ آپ اِسی طرح ہمارے بچوں کی زندگیوں سے تو نہ کھیلئے ..... "

اُن کا ایک ہی جواب ہوتا ۔

" آپ بے فکر رہےئے ، ہماری اسکول کو ایک ماہ کے اندر منظوری مل جائے گی ۔ "

بچوں کے ماں ، باپ سے نجات ملی تو ہیڈ ماسٹر اور ٹیچرس نے اُنھیں گھیر لیا ۔

" سر ! ہم ایک اُمید پر کم تنخواہ میں بھی سخت محنت کرکے بچوں کو پڑھا رہے ہیں کہ گرانٹ ملنے کے بعد ہمیں اچھی تنخواہ ملے گی ، لیکن اسکول کو ابھی تک منظوری ہی نہیں ملی ہے تو گرانٹ کس طرح ملے گی ؟

" سب ٹھیک ہوجائے گا ، آپ لوگ اپنی اپنی کلاس میں جائیی ۔ "

سب چپ چاپ اپنی اپنی کلاسوں میں چلے گئے ۔

اُن کے جانے کے بعد اُنھوں نے سیکریٹری ، کلرک اور ہیڈ ماسٹر کا حکم دیا ۔

" بی ، ڈی ، او ، زیڈ ، پی ، ایجوکیشن چےئرمین ، محکمہ تعلیم ، وِزارتِ تعلیم اور وزیرِ تعلیم سب جگہ ایک خط بھیج دو ۔ اگر ایک ماہ کے اندر ہماری اسکول کو منظوری نہیں دی گئی تو اسکول کے انتظامیہ کے اراکین ، ہیڈماسٹر ، ٹیچر ، کلرک اور چپراسی اسکول میں پڑھنے والے سبھی بچے اور اُن کے والدین منترالیہ کے سامنے بھوک ہڑتال کریں گے ۔ اور منظوری ملنے تک دھرنا دیں گے ۔ اِس خط سے دیکھنا ہلچل مچ جائے گی اور ایک ماہ کے اندر منظوری کا خط ہمارے ہاتھوں میں ہوگا ۔ "

اُن کی بات سن کر ہر کسی کی آنکھوں میں اُمید کی ایک نئی کرن جگمگانے لگی ۔

دھمکی بھی کارگر ثابت نہیں ہوسکی ۔ کچھ جگہوں سے تو دھمکی کا کوئی جواب ہی نہیں آیا اور کچھ جگہوں سے ٹکا سا جواب آیا تھا ۔

"ضابطوں اور اُصولوں کے مطابق آپ کی اسکول کو منظوری نہیں دی جاسکتی ہے ۔ "

سب کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا ۔

" ٹھیک ہے ۔ " پتہ نہیں کیوں پھر بھی اُن کی آنکھوں میں ایک خود اعتمادی تھی ۔ ۲۰ ! تاریخ کو یہاں سے منترالیہ تک ایک مورچے کا انتظام کیا جائے ۔ ۲۰ !تاریخ کو تمام منجمینٹ کے اراکین ، ہیڈ ماسٹر ، ٹیچرس ، اسٹاف ، تمام بچے اور بچوں کے ماں ، باپ اِس دھرنے میں شامل ہونے چاہےئیں ۔ سب مل کر منترالیہ پر دھرنا دیں گے اور اسکول کی منظوری نہ ملنے تک بھوک ہڑتال کریں گے ...... "

" جی ...... ! " سب نے ایک ساتھ جواب دیا ۔

۲۰ ! تاریخ کو دو لاریوں میں ۲۲۰ سے زائد بچوں کو ٹھونس ٹھونس کر بھرا گیا ۔ جگہ اِتنی تنگ تھی کہ بچے نہ کھڑے ہوسکتے تھے نہ بیٹھ سکتے تھے ۔ اُنھیں سانس لینا مشکل ہورہا تھا ۔ لیکن وہ کوئی فریاد نہیں کرسکتے تھے ۔ فریاد سننے والا کوئی نہیں تھا ۔

ایک بڑی سی گاڑی میں انتظامیہ کے اراکین تھے ۔ دُوسری چھوٹی گاڑی میں ہیڈ ماسٹر ، ٹیچرس اور اسٹاف تھا ۔

صرف چند بچوں کے ماں ، باپ مورچے میں شامل ہونے کو تےّار ہوئے تھے ۔ اُنھیں مورچے کے مقام پر پہنچنے کے لئے کہا گیا تھا۔ دو گھنٹے بعد گاڑیاں آزاد میدان میں جاکر رُکیں ۔

بچے گاڑیوں سے اُترے تو اُنھیں ایسا محسوس ہوا جیسے اُنھیں کسی جہنم سے نجات مل گئی ہے ۔

سورج سر پر چڑھ آیا تھا اور آسمان آگ برسا رہا تھا ۔

مورچے کی تےّاری کی جانے لگی ۔ بچوں کے ہاتھوں میں تختیاں اور بینرس دے کر اُنھیں نعرے یاد کرائے جانے لگے ۔ اُنھیں ضروری ہدایتیں دی جانے لگیں ۔

" سر! پانی ، بہت لگی ہے ۔ " کوئی بچہ ہونٹوں پر زبان پھیر کر بولا تو اُس کی آواز میں سیکڑوں آوازیں شامل ہوگئیں ۔

" یہاں پانی نہیں ملے گا ۔ ہم یہاں بھوک ہڑتال کرنے آئے ہیں ، کھانے پینے نہیں ۔ " ایک ٹیچر نے اُسے سمجھایا تو بچے اپنے پھٹے ہوئے ہونٹوں پر زبان پھیرنے لگے ۔

پیاس سے حلق میں کانٹے پڑ رہے تھے ۔ گلے سے آواز نہیں نکل رہی تھی ۔ اوپر سر پر سورج آگ برسا رہا تھا ۔ لیکن پھر بھی وہ پوری قوت سے نعرے لگاتے لڑکھڑاتے قدموں سے آگے بڑھ رہے تھے ۔

"ہماری مانگیں پوری کرو .... "

" ہماری اسکول کو منظوری دو ..... "

"ہماری زندگیوں سے مت کھیلو ...... "

" وزیرِ تعلیم ! ہائے ، ہائے ..... "

" محکمۂ تعلیم ! ہائے ، ہائے ...... "

" وزیرِ اعلیٰ ! مُردہ باد ...... "

ٹیچرس بچوں پر نظر رکھے ہوئے تھے ۔

اُنھیں زور زور سے نعرے لگانے کے لئے اُکساتے ۔ کوئی بچہ نعرہ نہیں لگاتا تو اُسے ٹوکتے ۔ آپس میں باتیں کرنے والے بچوں کو ڈانٹتے ۔ کسی کسی پر ہاتھ بھی اُٹھا دیتے ۔ بچوں کو قطار میں ٹریفک سے بچ کر چلنے کی ہدایتیں دیتے ۔

انتظامیہ کے اراکین ایک دُوسرے کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے چل رہے تھے ۔کبھی کوئی ممبر سب کے لئے آئس کریم یا کولڈ ڈرنک لے آیا تو کوئی سافٹ ڈرنک کی بوتلیں یا پھر کھانے پینے کی کوئی چیز ۔ ان سب کا لُطف اُٹھاتے وہ مورچے کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے ۔

دو گھنٹے بعد مورچہ منترالیہ پہنچ گیا ۔ منترالیہ سے پہلے ہی بڑے سے میدان میں پولس نے اُنھیں روک لیا ۔

سب میدان میں دھرنا دے کر بیٹھ گئے ۔

آگے آگے گپتاجی ، سیکریٹری اور انتظامیہ کے اراکین تھے ۔ اُن کے پیچھے ہیڈ ماسٹر ، ٹیچر ، دیگر اسٹاف اور اُن کے پیچھے بچے ۔

سب زور زور سے نعرے لگا رہے تھے ۔

سب کو سختی سے حکم دیا گیا تھا کہ وہ اتنی زور سے چیخیں کہ منترالیہ کی چھتیں ہل جائیں ۔

لیکن دس کروڑ عوام کی چیخوں سے جن کا کچھ نہیں بگڑتا تھا ، سو دو سو بچوں کے نعرے بھلا اُن کا کیا بگاڑ سکتے تھے ۔

کسی وزیر کی گاڑی آتی تو " زندہ باد ، مردہ باد " کے نعرے اور زور زور سے لگائے جاتے ۔

بھوک پیاس سے بچوں کا برا حال تھا اوپر سے تپتی دھوپ جس زمین پر وہ بیٹھے تھے وہ بھی تندور کی طرح تپ رہی تھی ۔ بچوں کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا رہا تھا ۔ اچانک ایک بچہ چکرا کر گرا اور بے ہوش ہوگیا ۔ سب اُس کی طرف دوڑے ۔ اُسے ہوش میں لانے کی کوشش کی جانے لگی ۔ لیکن بچہ آنکھ نہیں کھول رہ تھا ۔

قریب کھڑے ڈاکٹر نے بچے کو چیک کیا اور متفکر آواز میں بولا ۔

" اِس بچے کی حالت بہت نازک ہے ۔ اِس کا بلڈ پریشر لو ہورہا ہے ۔ اِسے فوراً اسپتال پہنچانا بہت بہت ضروری ہے ۔ "

" نہیں ! " گپتاجی ڈٹ گئے ۔ " چاہے بچے کی جان چلی جائے ۔ بچہ دھرنے سے نہیں ہٹے گا ۔ جب تک ہماری مانگ پوری نہیں ہوتی ، کوئی بھی بچہ یہاں سے نہیں ہلے گا ۔ "

اِس درمیان دو اور بچے چکرا کر گر گئے تھے ۔

کئی بچوں نے بھوک اور کمزوری سے اپنی گردنیں اپنے ساتھیوں کے کاندھوں پر ڈال دی تھیں ، کچھ کمزوری کی وجہ سے زمین پر لیٹ گئے تھے ۔ ڈاکٹر اور وہاں پہرہ دینے والے پولس والوں کے چہروں پر ہوائیاں اُڑ رہی تھیں ۔

گپتاجی اور اُن کے ساتھیوں پر فاتحانہ مسکراہٹ رقص کررہی تھی ۔

خبریں منترالیہ میں پہونچیاور وہی ہوا جو ایسے موقعوں پر ہوتا ہے ۔ منترالیہ ہلنے لگا ۔

" ایک آدھ بچہ مر گیا تو اپوزیشن اور پریس سارا آسمان سر پر اُٹھا لیں گے اور ہماری حکومت کے دُشمن ہوجائیں گے ۔ اُن سے کہہ دو کہ وہ دھرنا ختم کرکے واپس اپنے شہر چلے جائیں ۔ اُن کی اسکول کی منظوری کے بارے میں سنجیدگی سے غور کیا جائے گا ۔ "

ایک سیکریٹری بولا ۔

" سر وہ منظوری سے کم کسی بھی وعدے پر بات کرنے کو تےّار نہیں ہے ۔ صفا کہتے ہیں کہ اُن کی اسکول کو منظوری دی جائے گی تب ہی وہ دھرنے سے ہٹیں گے ۔ "

اِس درمیان چار اور بچوں کے بے ہوش ہونے کی خبر اوپر پہونچی ۔ وزیرِ تعلیم کے سارے سیکریٹری گھبرا گئے ۔ وزیرِ اعلیٰ کے سیکریٹری کے بھی کان کھڑے ہوگئے ۔

بات وزیرِ اعلیٰ تک پہونچ گئی تھی ۔ وہ غصے سے بولا

" تماشہ بنا کر بات مت بڑھاؤ ۔ وزیرِ تعلیم سے فوراً کہو کہ میرا حکم ہے ۔ اُن کی اسکول کو فوراً منظوری دے دو ۔ "

نیچے آکر گپتاجی کو یہ خبر دی گئی ۔

" وزیرِ تعلیم نے آپ کی اسکول کو منظوری دے دی ہے اور وہ آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں ۔ "

گپتاجی کا چہرہ گلاب کی طرح کھل اُٹھا ۔

" میرے پیارے ساتھیوں اور بچوں ! ہمارا دھرنا کامیاب رہا ۔ جس کام کے لئے ہم نے دھرنا دیا تھا ، مورچہ نکالا تھا وہ کام ہوگیا ہے ۔ وزیرِ تعلیم نے ہماری اسکول کو منظوری دے دی ہے ۔ اِس دھرنے میں ہمیں جو تکلیفیں اُٹھانی پڑیں ، وہ رنگ لائی ہیں ۔ کچھ پانے کے لئے کچھ کھونا پڑتا ہے ، کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے ۔ اپنے حقوق کو حاصل کرنے کے لئے جو لڑائیاں لڑی جاتی ہیں اُن میں مشکلات اور تکلیفیں تو اُٹھانی پڑتی ہیں ، لیکن آخر میں جیت سچائی کی ہی ہوتی ہے ۔ آپ لوگ دھرنا ختم کرکے شہر واپس چلے جائیں ۔ میں اور کمیٹی کے اراکین منتری جی سے بات کرکے آتے ہیں ...... منتری جی نے ہمیں چائے پر بلایا ہے ۔

Add:-
M.Mubin
303- Classic Plaza, Teen Batti
BHIWANDI – 421 302
Dist. Thane ( Maharashtra)

0 comments:

Post a Comment